تفسیر اجتماعی عقلی کی
ترویج میں سید جمال الدین کا
کردارتحریر: محمد حسن جمالیقرآن کریم بشریت کی ہدایت کا اصلی منبع و سرچشمہ ہے-پیغمبر مکرم اسلام کی اہم ذمہ داریوں میں سرفہرست کلام الہی کی تفسیر ہے-آنحضرت(ص) کو قرآن کریم کے پہلا مفسر ہونےکا اعزاز حاصل ہے-آپ (ص)کے بعد اس سلسلےکو ائمہ اطہار ؑ نے جاری رکھا- انہوں نے اپنے مکتب میں ایسے شاگردوں کی تربیت فرمائی جنہوں نے مختلف روشوں سے قرآن کریم کی تفسیر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا-آخری صدیوں میں مسلم مفکرین نے دینی اصلاح پر مبنی تحریک کو معرض وجودمیں لایا-اسلامی دانشمندوں کی تاریخ میں ہمیں ایسی علمی شخصیات نظر آتے ہیں جنہوں نےرسمی طور پر تفسیر قرآن کے شعبے میں کام تو نہیں کیا لیکن ان کے آثار اور گفتارسے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ انہوں نے دینی اصلاح پر مبنی تفسیر کی نہضت کو تقویت بخشی ہے-انہیں علمی شخصیات میں سر فہرست سید جمال الدین اسدآبادی(1254ق1314-ق)کا نام آتا ہے-ان کاشماردینی مصلح دانشمندوں کے سرداروں میں ہوتا ہے۔ان کی سیاسی اوراجتماعی زندگی کے بعض گوشوں میں ابہامات پائے جانے کے باوجودعالم اسلام میں تفکر اجتماعی عقلی کی ترویج میں ان کا بنیادی رول رہا ہے- بہت سارے محققین نے قرآن کریم کی تعلیمات کو محور قرار دے کر معاشرتی مسائل کی اصلاح کے لئے قدم اٹھانے والے پہلے محقق دانشمند کے طور پرجمال الدین اسد آبادی کی شخصیت کا تعارف کیا گیا ہے-انہوں نے اپنے مختلف مقالات،خطبات اور سیاسی سفرناموں میں اس حقیقت کا برملا اظہار کیا ہے۔بعدکے مصلحین نے اسی شخصیت سے متاثر ہوکر ہی اصلاحی حرکت کو تداوم بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جمال الدین اسد آبادی کی عظمت اور منزلت بیان کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا ہے- بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 148 تاريخ: سه شنبه 21 تير 1401 ساعت: 13:59